Niyat Be-Naqaab
Episodes
سجل کی ماں امجد بٹ کا سن کر بہت پریشان تھی مگر سجل ہمت دلاتی رہتی۔ مالکن خالہ رشیدہ کے نام سے مشہور تھی۔ اس نے بڑے فخر سے بتایا کہ اس کی ایک رشتہ دار احد کے گھر میں ملازمہ ہے۔ وہ وہاں کی خبریں مجھے دیتی رہتی ہے۔ سنا ہے احد کی بیوی بڑی خوبصورت ہے۔ سجل نے خالہ رشیدہ سے معزرت کر کے پارلر شفٹ ہو گئی اور خالہ رشیدہ سے وعدہ لیا کہ وہ سر احد اگر کھبی آے تو وہ انہیں ہمارے بارے میں کچھ نہیں بتاے گی۔ کسی اور کو بھی نہیں۔ خالہ رشیدہ لالچی ضرور تھی مگر دوسروں کے کام بھی آتی تھی۔ سجل اور اس کی ماں کو اسی کا سہارا تھا پارلر خوب چل پڑا تھا پہلے سے بھی زیادہ۔ خالہ رشیدہ نے بھی بیٹی کو کام سیکھنے لگا دیا تھا۔ سجل کی ماں پیسوں کا حساب کتاب سنبھالتی تھی۔ اس کی صحت بھی اب کافی بہتر تھی۔
سجل کی پریگنینسی تھی۔ وہ اس بچے کو جنم دینا چاہتی تھی۔ وہ احتیاط کر رہی تھی کہ احد کو خبر نہ ہو۔ خالہ رشیدہ ان کے ہر راز میں شامل تھی۔ خالہ نے بتایا کہ احد کی بیوی بھی حاملہ ہے۔ سجل نے دل میں سوچا کہ دو بچوں کا باپ بنے گا۔ پھر اس نے دکھ سے سوچا ایک باپ کی اولاد ہوتے ہوئے وہ دولت میں کھیلے گا اور محلوں میں پلے گا اور اس کا بیٹا بغیر باپ کے ساے میں غربت میں پلے گا۔ خالہ رشیدہ اکثر آ کر بیٹھ جاتی اور کسٹمر سے باتیں کرنے لگتی۔ سجل کام میں مصروف تھی خالہ کسی سے باتوں میں مگن تھی۔ سجل حیرت زدہ رہ گئی وہ احد کی بیوی تھی۔ خالہ اسے نہ جانتی تھی سجل نے خالہ کو بتانا مناسب نہیں سمجھا۔ ماں بھی اسے نہیں جانتی تھی۔ سجل نے خود کو نارمل کیا۔ اسے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ اتنے میں اس کے موبائل بجا سجل پیچھے کھڑی تھی کال پر احمد کی تصور لگی تھی۔ اس نے ہیلو سر کہا تو سجل سوچ میں پڑ گئی۔ وہ اسے بتانے لگی سر میں کسٹمر کے پاس ہی جا رہی ہوں۔ وہ اسے بتانے لگی سر میں احد سے وٹس اییپ پر ہی کال کرتی ہوں تاکہ اسے پتہ نہ چلے کہ میں پاکستان میں ہوں۔ یس سر میں اب سیدھی ہوٹل جاوں گی۔
سجل کے ہوش اڑ گئے مگر جلد کنٹرول کر لیا۔ اپنی ہیلپر جو رکھی تھی ان کو اس کا کام کرنے کا کہہ کر جا کر خاموشی سے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ اف خدایا یہ تو وہی گاڑی تھی اس کی آنکھیں نم ہو گی۔ ماں کے آواز دینے پر خود پر قابو پا کر جلدی سے آنسو صاف کر کے ماں کے پاس آ گی۔ اس نے جاتے ہوئے کھڑکی سے دیکھا وہ ایک ادا سے اس کے ساتھ شوخیاں کرتی آگے بیٹھی۔
سجل نے ماں کی پریشانی دور کرنے کے لیے اسے بتایا کہ امجد بٹ احد کا سسر نہیں ہے۔ اس نے جب ماں کی قسم کھائی تو اسے یقین آگیا۔ اب وہ پریشان تھی کہ احد کا کیا کرے اسے تو بیوی دھوکہ دے رہی ہے کس کو بتاے۔ کچھ سمجھ نہیں آیا۔
وہ اکثر اس پارلر آنے لگی۔ ہر بار کوئی نیا شخص ساتھ ہوتا۔ خالہ رشیدہ نے ایک راز کی بات بتائی کہ وہ خوبصورت لڑکی جو آتی ہے۔ اسے ایک نومولود بچہ چاہیے۔ اس کے سسرال والوں کو پوتا چاہیے وہ بچہ پیدا نہیں کر سکتی۔ وہ میکے رہ رہی ہے ان کو بتایا ہے کہ بچہ ہونے والا ہے۔ وہ اس کے بدلے بھاری رقم دے گی۔ اگر تم مانو تو تمھارا بچہ اچھے خوشحال گھرانے میں پلے گا۔ سجل جھٹ بولی ماں مجھے منظور ہے۔ ماں بولی نہ نہ اتنی فراڈن عورت۔ خالہ بولی۔ اس کا شوہر بھی تو نہیں چاہتا کہ یہ بچہ پیدا کرے۔ اچھا ہے اس کا مسلہ بھی حل ہو جائے گا۔ مگر ماں نہ مانے۔
سجل نے خالہ رشیدہ سے کہا کہ موم ڈر رہی ہیں میں انہیں منا لوں گی اب ان کے سامنے زکر نہ کرنا۔ جب وقت آے گا تو میں منا لوں گی۔ تم اسے ہاں کر دو مگر بچہ اپنی بیٹی کا بتانا میرا نہ بتانا بلکل بھی۔ خالہ بولی مگر میری بیٹی تو کنواری ہے۔ سجل نے کہا کہ میں جو ڈاکٹر کو ریگولر چیک اپ ڈاکٹر سے کرواتی ہوں۔ اس میں الٹراساونڈ کی رپورٹ بھی ہے۔ جس میں بے بی بوائے بتایا ہے۔ وہ عورت اتنی جلدی میں رہتی ہے وہ اتنی باریکی میں نہیں جاے گی۔ میری ڈاکٹری رپورٹس اسے تسلی کے لیے دیکھا دینا۔ خالہ مان گئی کیونکہ اسے پیسے نظر آ رہے تھے اور وہ اور بچہ کہاں سے لاتی۔
سجل نے احد سے الگ ہونے کے بعد سم نکال کر دوسری ڈال لی تھی تاکہ احد یا نیلم اسے فون نہ کریں۔ مگر اب مسئلہ اور تھا۔ اس نے پرانی سم ڈال کر نیلم کو میسج کیا کہ کسی کو مت بتاے وہ اس سے ضروری بات کرنے کے لئے ملنا چاہتی ہے۔ مگر اس نے اسے فون کر کے بےنقد سنائی کہ اب غربت کے باعث مجبور ہو کر نوکری چاہیے ہو گی۔ تم نے میرے بھائی کو دیوانہ بنا رکھا تھا اب اس کی شادی ہو چکی ہے۔ بچہ بھی ہونے والا ہے۔ بڑی مشکل سے تمہیں بھولا ہے۔ اب تم شادی کر لو اور اس کی زندگی سے نکل جاو۔ سجل نے کہا کہ میری شادی ہو چکی ہے۔ نیلم تھوڑی نرم پڑ گئی۔ بولی اب کیا مسئلہ ہے۔ وہ بولی آپ کے گھر ملازمت کرنا چاہتی ہوں۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.